نئی دہلی،7؍فروری(ایس او نیوز؍ایجنسی)کرناٹک کے کالجوں میں حجاب میں ملبوس طالبات کے داخلے نہیں دینے کی تنقید کرتے ہوئے، اپوزیشن پارٹیوں نے ہفتہ کو مذہبی لباس پہننے کے حق، تعلیم کا حق اور مساوات کے حق کے تین اصولوں پر زور دیا-
انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق کانگریس، ترنمول کانگریس، بائیں بازو کی جماعتوں، راشٹریہ جنتا دل(آر جے ڈی)، این سی پی اور بہوجن سماج پارٹی(بی ایس پی)نے دلیل دی کہ آئین شہریوں کو اپنے مذہب پر عمل کرنے کے بنیادی حق کی ضمانت دیتا ہے-راجیہ سبھا میں قائد حزب اختلاف ملک ارجن کھرگے نے کہاکہ طالبات کئی دہائیوں سے ہیڈ اسکارف پہن کر اسکول آتی رہی ہیں - اس سے پہلے کسی نے کوئی اعتراض نہیں کیا- اب وہ اس کی مخالفت کیوں کر رہے ہیں؟ وہ توجہ ہٹانے کیلئے ایسا کر رہے ہیں - روزگار نہیں ہے، وہ مہنگائی پر قابو نہیں پا رہے ہیں - وہ اڈپی اور منگلوروجیسے علاقوں کو ایک تجربے کے طور پر استعمال کر رہے ہیں - اگر یہ کامیاب ہوتا ہے تو وہ اسے ریاست کے دیگر مقامات پر بھی دوہراسکتے ہیں -
سی پی آئی (ایم)کے جنرل سکریٹری سیتارام یچوری نے کہاکہ عدالتیں اس سے نمٹ رہی ہیں - عوام کے آئینی حقوق کا تحفظ کیا جائے- یہ ہمارا موقف ہے-آئین کا حوالہ دیتے ہوئے آر جے ڈی کے سینئر لیڈر اور راجیہ سبھا ممبر پارلیمنٹ منوج کمار جھا نے کہاکہ حجاب کوئی رکاوٹ نہیں ہے بلکہ اس کی مخالفت کرنے والوں کی ذہنیت میں خلل ہے- میں ایک یونیورسٹی میں پڑھاتا ہوں، پچھلے کئی سالوں سے میرے پاس بہت سی لڑکیاں ہیں جو حجاب پہنتی ہیں - یہ میرے ذہن میں کبھی نہیں آیا کہ مجھے اس کی فکر کرنی چاہیے- ہمیں یہ دیکھنا چاہیے کہ آئین خاص طور پر آرٹیکل25 (مذہب کی آزادی کا حق)کے بارے میں کیا کہتا ہے- کیا اب ہم نے ہر اس خیال کو ترک کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے جو اس ملک کو عزیز ہے کیونکہ آپ،لوگوں اور برادریوں کے درمیان ہر روز نئی رکاوٹیں کھڑی کرنا چاہتے ہیں تاکہ توجہ ہٹائی جا سکے-
ترنمول کانگریس کی رکن پارلیمنٹ سشمتا دیو نے کہا کہ جہاں تک ملک کے پرسنل لا، رسم و رواج اور روایات کا تعلق ہے، کوئی بھی لوگوں کو یہ نہیں بتا سکتا کہ کیا کرنا ہے اور کیا پہننا ہے؟ یہ ان کی ثقافت اور رسم و رواج کا حصہ ہے- آپ کو اس کا احترام کرنا چاہئے-بی ایس پی کے لوک سبھا ایم پی کنور دانش علی نے کہا کہ لڑکیوں کو حجاب پہننے سے روکنے کا یہ اقدام مودی حکومت کی بیٹی بچاؤ، بیٹی پڑھاؤاسکیم کو کمزور کرتا ہے- ایک ملک کے طور پر، ہم لوگوں کے ایک بڑے حصے کی ذہنیت کو تبدیل کرنے کیلئے سخت محنت کر رہے ہیں جو لڑکیوں کی تعلیم کو دوسری ترجیح سمجھتے ہیں - یہ ایک حقیقت ہے کہ لڑکیوں کی تعلیم اب بھی بہت سی برادریوں بشمول دلتوں، آدیواسیوں خصوصاً مسلمانوں میں اولین ترجیح نہیں ہے-
این سی پی کے رکن پارلیمنٹ ماجد مینن نے کہاکہ اس اقدام کا مقصد دو مختلف کمیونٹیز کے طلبا کے درمیان دراڑیں پیدا کرنا ہے جو انتہائی افسوسناک ہے- کووڈسے متاثرہ تعلیم کے بحال ہونے کے بعد لڑکیوں کو حجاب کے معاملے پر دوبارہ پریشانی پیدا نہیں کرنی چاہیے- جب تک حکومتی کمیٹی کوئی فیصلہ نہیں لیتی تب تک یہ درست ہوگا کہ انتظامیہ ان طالبات کو کلاس میں داخل ہونے کی اجازت دے- تاہم، مسلم لڑکیوں اور ان کے اہل خانہ کو اسکول یونیفارم کے اصولوں پر عمل کرنا چاہیے -
تاہم شیوسینا کی رکن پارلیمنٹ پرینکا چترویدی اس معاملے پر مختلف رائے رکھتی ہیں - ان کا کہنا ہے کہ اسکول تعلیم کی جگہ ہے اور طلبہ کو صرف طلبہ ہونا چاہیے نہ کہ کسی مذہب کے برانڈ ایمبیسڈر- چترویدی نے بتایاکہ جب ہم اسکول میں تھے- اسکول کی وردی تمام مذاہب سے بالاتر تھی- اگر کوئی اسکول رولز بنا رہا ہے تو ہمارے لیڈر اور مذہبی رہنما اس میں شامل ہو کر اسے مذہب سے جڑا مسئلہ کیوں بنا رہے ہیں - مثال کے طور پر، اگر آپ کو کلب میں داخل ہونے کیلئے سینڈل پہننے کی اجازت نہیں ہے، تو آپ ان اصولوں پر عمل کریں گے-
اسکول تعلیم کی جگہ ہے اور ہر اسکول یونیفارم کے اصولوں پر عمل کرتا ہے-بتادیں کہ جنوری کے مہینے میں اسی ضلع کے کنداپور میں اسی طرح کے دو واقعات ہوئے ہیں جب کرناٹک کے اڈپی ضلع کے ایک کالج میں مسلم طالبات کے حجاب پہننے کے خلاف احتجاج کرنے کا معاملہ سامنے آیا تھا- ان دونوں کالجوں میں بھی حجاب پہننے والی لڑکیوں کو داخلے کی اجازت نہیں ہے-